تیرے اِرد گِرد وہ شور تھا، مِری بات بیچ میں رہ گئی نہ میں کَہہ سکا نہ تُو سُن سکا، مِری بات بیچ میں رہ گئی میرے دل کو درد سے بھر گیا، مجھے بے یقین سا…
Read moreکیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے رات بھر چاند کے ہمراہ پھرا کرتے تھے جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیں ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے …
Read moreانہی خوش گمانیوں میں کہیں جاں سے بھی نہ جاؤ وہ جو چارہ گر نہیں ہے اسے زخم کیوں دکھاؤ یہ اداسیوں کے موسم یونہی رائگاں نہ جائیں کسی یاد کو پکارو کسی در…
Read moreہاتھ خالی ہیں ترے شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہمیں پہچانتا ہے عمر گزری ہے ترے شہر میں آتے جاتے اب کے …
Read moreزندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے اِک خواب ہیں جہاں میں بِکھر جائیں…
Read moreاب دو عالم سے صدائے ساز آتی ہے مُجھے دِل کی آہٹ سے تری آواز آتی ہے مُجھے جھاڑ کر گردِ غمِ ہستی کو اُڑ جاؤں گا میں بے خبر ایسی …
Read moreدُکھ میں نِیر بہا دیتے تھے سُکھ میں ہنسنے لگتے تھے سیدھے سادے لوگ تھے لیکن ، کِتنے اَچھے لگتے تھے نفرت چَڑھتی آندھی جیسی ، پیار اُبلتے چَشموں سا بَیر…
Read moreاگر کبھی میری یاد آئے تو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں کسی ستارے کو دیکھ لینا اگر وہ نخلِ فلک سے اڑ کر تمہارے قدموں میں آ گرے تو یہ جان لینا وہ ا…
Read moreبے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا اک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا چھلکائے ہوئے چلنا خوشبو لب لعلیں کی اک باغ سا ساتھ اپنے مہکائے ہوئے رہنا …
Read moreیوسف نہ تھے مـــگر سرِ بازار آ گئے خوش فہمیاں یہ تھیں کہ خریدار آ گئے ھم کج ادا چراغ کہ جب بھی ہوا چلی طاقوں کو چھوڑ کر سرِ دیوار آ گئے پھر اس طرح ہُ…
Read moreمرا خاموش رہ کر بھی انہیں سب کچھ سنا دینا زباں سے کچھ نہ کہنا دیکھ کر آنسو بہا دینا میں اس حالت سے پہنچا حشر والے خود پکار اٹھے کوئی فریاد کرنے آ…
Read moreیہ اور بات ہے تجھ سے گلا نہیں کرتے جو زخم تو نے دئیے ہیں بھرا نہیں کرتے ہزار جال لئے گھومتی پھرے دنیا تیرے اسیر کسی کے ہوا نہیں کرتے یہ آئینوں کی طرح…
Read moreتیز ہو جاتا ہے خوشبو کا سفر شام کے بعد پھول شہروں میں بھی کھلتے ہیں مگر شام کے بعد اس سے دریافت نہ کرنا کبھی دن کے حالات صبح کا بھولا جو لوٹ آیا ہو گ…
Read moreدنیا کا کچھ برا بھی تماشا نہیں رہا دل چاہتا تھا جس طرح ویسا نہیں رہا تم سے ملے بھی ہم تو جدائی کے موڑ پر کشتی ہوئی نصیب تو دریا نہیں رہا کہتے تھے ایک…
Read moreجس روز ہمارا کوچ ہو گا پھولوں کی دکانیں بند ہوں گی شیریں سخنوں کے حرفِ دُشنام بے مہر زبانیں بند ہوں گی پلکوں پہ نمی کا ذکر ہی کیا یادوں کا سراغ تک نہ…
Read moreہزار آرائشیں کیجے مگر اچھا نہیں لگتا جو دل وحشت بداماں ھو تو گھر اچھا نہیں لگتا نمائش جسم کی بے پیرھن اچھی نہیں ھوتی خزاں کے دور میں کوئ شجر اچھا نہی…
Read moreظالم سے مصطفیٰؐ کا عمل چاہتے ہیں لوگ سوکھے ہوئے درخت سے پھل چاہتے ہیں لوگ کافی ہے جن کے واسطے چھوٹا سا اک مکاں پوچھے کوئی تو شیش محل چاہتے ہیں لوگ سا…
Read moreشہر لگتا ہے مجھے کیسا بیاباں کی طرح اب تو دیوار کا سایہ بھی ہے مہماں کی طرح جانی پہچانی مگر بھولی ہوئی راہوں پر یاد کو ساتھ لیے بیٹھے ہیں ساماں…
Read moreکورونا کے پہلے دن سے ہی سوچ رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے دسمبر 2019 سے دنیا کو اس صورتحال میں مبتلا کرنے کا فیصلہ کیوں کیا ہے۔ ٹیکنالوجی اور جدید عل…
Read moreجب تک آپ یہ سطریں پڑھیں گے تب تک کرونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد سات سو کا ہندسہ عبور کر چکی ہو گی۔ بلاشبہ چینیوں نے کرونا وائرس کے متاث…
Read more
Find Us On