ﺗُﻮؐ ﮐُﺠﺎ ﻣﻦ ﮐُﺠﺎ، ﺗُﻮؐ ﮐُﺠﺎ ﻣﻦ ﮐُﺠﺎ ﺗُﻮؐ ﺍﻣﯿﺮِ ﺣَﺮﻡ، ﻣﯿﮟ فقیرِ عَجَم ﺗﯿﺮﮮ گُـن ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻟﺐ، ﻣﯿﮟ ﻃﻠﺐ ﮨﯽ ﻃﻠﺐ ﺗُﻮؐ ﻋﻄﺎ ﮨﯽ ﻋﻄﺎ، ﻣﯿﮟ …
Read moreتیرے اِرد گِرد وہ شور تھا، مِری بات بیچ میں رہ گئی نہ میں کَہہ سکا نہ تُو سُن سکا، مِری بات بیچ میں رہ گئی میرے دل کو درد سے بھر گیا، مجھے بے یقین سا…
Read moreیہ ہے میکدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے، یہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہے یہ جناب شیخ کا فلسفہ جو سمجھ میں میری نہ آ سکا، جو…
Read moreکوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہے وہ جو اپنا تھا وہی اور کسی کا کیوں ہے یہی دنیا ہے تو پھر ایسی یہ دنیا کیوں ہے یہی ہوتا ہے تو آخر یہی ہوتا کیوں…
Read moreکیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے رات بھر چاند کے ہمراہ پھرا کرتے تھے جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیں ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے …
Read moreانہی خوش گمانیوں میں کہیں جاں سے بھی نہ جاؤ وہ جو چارہ گر نہیں ہے اسے زخم کیوں دکھاؤ یہ اداسیوں کے موسم یونہی رائگاں نہ جائیں کسی یاد کو پکارو کسی در…
Read moreشر کسی کا تھا سر ہمارے گئے ہم کسی دوسرے پہ وارے گئے اس سے بڑھ کر بہادری کیا ہے کچھ نہتوں کے سر اتارے گٸے اُس طرف فرض اور اِدھر تھا عشق ہم تو دونوں…
Read moreہاتھ خالی ہیں ترے شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہمیں پہچانتا ہے عمر گزری ہے ترے شہر میں آتے جاتے اب کے …
Read moreزندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے اِک خواب ہیں جہاں میں بِکھر جائیں…
Read moreمَیں پیمبر نہ سہی ہُوں تو پیمبر جیسا کوئی گھر بھی نہیں ویران مِرے گھر جیسا اہلِ دل، دل کی نزاکت سے ہیں واقف ورنہ کام لفظوں سے بھی لے سکتے ہی…
Read moreکہنے کو تو گزرے کئی طوفان بھی سر سے ہم لوگ مگر شہر میں رونے کو بھی ترسے لفظوں کے غلافوں میں چھپاؤں اسے کب تک بجلی ہے تو ٹوٹے، کوئی بادل ہے تو برسے لش…
Read moreوہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے وہ بھی چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری نکلے سب کے ہونٹوں پہ مرے بعد ہیں باتیں میری ! میرے دشمن مرے لفظوں کے بھکاری نکلے ایک…
Read moreجس کے پاس کھونے کیلئے کچھ نہ ہو وہ اپنے طاقتور دشمن پر فتح پانے کیلئے موت کو اپنا ہتھیار بنا لیتا ہے۔ فلسطینیوں کی مزاحمتی تنظیم حماس کو بہت اچھی طرح…
Read moreاب دو عالم سے صدائے ساز آتی ہے مُجھے دِل کی آہٹ سے تری آواز آتی ہے مُجھے جھاڑ کر گردِ غمِ ہستی کو اُڑ جاؤں گا میں بے خبر ایسی …
Read moreیہ اپنی مرضی سے سوچتا ہے اسے اُٹھا لو "اُٹھانے والوں " سے کچھ جدا ہے اِسے اُٹھا لو وہ بے ادب اس سے پہلے جن کو اُٹھا لیا تھا یہ ان کے ب…
Read moreہر برس ہی گراں گزرتے ہیں خواہشوں کے نگار خانے میں کیسے کیسے گماں گزرتے ہیں رفتگاں کے بکھرتے سالوں کی ایک محفل سی دل میں سجتی ہے فون کی ڈائری کے صفحوں…
Read moreوفا کے خوگر وفا کریں گے یہ طے ہو ا تھا وطن کی خاطر جیے مریں گے یہ طے ہو ا تھا بوقتِ ہجرت قدم اُٹھیں گے جو سوئے منزل تو بیچ رستے میں دَم نہ لیں گے یہ …
Read moreدُکھ میں نِیر بہا دیتے تھے سُکھ میں ہنسنے لگتے تھے سیدھے سادے لوگ تھے لیکن ، کِتنے اَچھے لگتے تھے نفرت چَڑھتی آندھی جیسی ، پیار اُبلتے چَشموں سا بَیر…
Read moreڈیجیٹل دور میں جہاں زندگی کے معمولات میں بے شمار تبدیلیاں آئی ہیں وہاں روایتی کتابوں کے حوالے سے بھی بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے۔ تاہم یہ حقیقت نظرانداز…
Read moreاگر کبھی میری یاد آئے تو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں کسی ستارے کو دیکھ لینا اگر وہ نخلِ فلک سے اڑ کر تمہارے قدموں میں آ گرے تو یہ جان لینا وہ ا…
Read more
Find Us On