کہنے کو تو گزرے کئی طوفان بھی سر سے ہم لوگ مگر شہر میں رونے کو بھی ترسے لفظوں کے غلافوں میں چھپاؤں اسے کب تک بجلی ہے تو ٹوٹے، کوئی بادل ہے تو برسے لش…
Read moreوہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے وہ بھی چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری نکلے سب کے ہونٹوں پہ مرے بعد ہیں باتیں میری ! میرے دشمن مرے لفظوں کے بھکاری نکلے ایک…
Read moreمرحلے شوق کے، دشوار ہوا کرتے ہیں سائے بھی راہ کی دیوار ہوا کرتے ہیں وہ جو سچ بولتے رہنے کی قسم کھاتے ہیں وہ عدالت میں گنہگار ہوا کرتے ہیں وہ جو پتھر …
Read moreسمندر سارے شراب ھوتے، تو سوچو کتنے فساد ھوتے گناہ نہ ھوتے ثواب ھوتے، تو سوچو کتنے فساد ھوتے کسی کے دل میں کیا چھپا ھے، بس خدا ہی جانتا ھے دل اگ…
Read moreجدید طرز احساس کا ذکر ہو تو کئی شعرا کے نام سامنے آجاتے ہیں۔ اس قسم کی شاعری کا آغاز 60 کی دہائی میں ہوا۔ بہت سے شعرا نے روایت سے بغاوت کر کے ایک…
Read moreکب تلک شب کے اندھیرے میں شہر کو ترسے وہ مسافر جو بھرے شہر میں گھر کو ترسے آنکھ ٹھہرے ہوئے پانی سے بھی کتراتی ہے دل وہ راہرُو کہ سمندر کے سفر کو…
Read more"دسمبر مجھے راس آتا نہیں" کئی سال گزرے کئی سال بیتے شب و روز کی گردشوں کا تسلسل دل و جاں میں سانسوں کی پَرتیں اُلٹتے ہوئے …
Read moreوہ دن کتنے اچھے تھے جب سب ساتھی سچے تھے سچی رت سچ بنتی تھی سچ کہتے سچ سنتے تھے سچ کے سوچ سمندر میں ... سچے پار اترتے تھے یار وہ قول ہی سچا ت…
Read moreقتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی کے بیچ اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ اپنی پوشاک کے چھن جانے پہ افسوس نہ کر سر سلامت نہیں رہتے یہاں دستار کے…
Read moreکئی سال گزرے کئی سال بیتے شب و روز کی گردشوں کا تسلسل دل و جاں میں سانسوں کی پرتیں الٹتے ہوۓ زلزلوں کی طرح ہانپتا ہے ..!... چٹختے ہوۓ خواب آ…
Read more
Find Us On