Urdu Classics

6/recent/ticker-posts

دسمبر مجھے راس آتا نہیں....محسن نقوی


"دسمبر مجھے راس آتا نہیں"

کئی سال گزرے
کئی سال بیتے
شب و روز کی گردشوں کا تسلسل
دل و جاں میں سانسوں کی پَرتیں اُلٹتے ہوئے
زلزلوں کی طرح ہانپتا ہے

چٹختے ہوئے خواب
آنکھوں کی نازک رَگیں چھیلتے ہیں
مگر میں ہر اِک سال کی گود میں جاگتی صبح کو
بے کراں چاہتوں سے اَٹی زندگی کی دُعا دے کے
اَب تک وہی " جستجو " کا سَفر کر رہا ہُوں
سفر زندگی ہے
سفر آگہی ہے
سفرآبلہ پائی کی داستاں ہے
سفر عمر بھی کی سُلگتی ہوئی خواہشوں کا دھواں ہے

کئی سال گزرے
کئی سال بیتے

مسلسل سفر کے خم و پیچ میں
سانس لیتی ہوئی زندگی تھک گئی ہے
کہ جذبوں کی گیلی زمینوں میں
بوئے ہوئے روزو شب کی ہر اک فصل اب" پک " گئی ہے
گزرتا ہوا سال بھی آخری ہچکیاں لے رہا ہے
میرے پیش و پَس
خوف، دہشت، اَجل، آگ، بارود کی مَوج

آبادیاں نوچ کر اپنے جبڑوں میں جکڑی ہوئی زندگی کو
درندوں کی صُورت
نِگلنے کی مشقوں میں مصروف تر ہے
ہر اک راستہ، موت کی رہ گزر ہے
گزرتا ہوا سال جیسے بھی گزرا
مگر سال کے آخری دِن
نہایت کٹھن ہیں

ہر اک سَمت لاشوں کے اَنبار
زخمی جنازوں کی لمبی قطاریں
کہاں تک کوئی دیکھ پائے؟
ہواؤں میں بارُود کی باس
خود اَمن کی نوحہ خواں ہے
کوئی چارہ گر، عصرِ حاضر کا کوئی مسیحا کہاں ہے؟
مرے ملنے والو
نئے سال کی مُسکراتی ہوئی صبح ۔۔۔۔۔۔۔۔ گر ہاتھ آئے
تو مِلنا

کہ جاتے ہوئے سال کی ساعتوں میں
یہ بجھتا ہُوا دل
دھڑکتا تو ہے
مسکراتا نہیں
دسمبر مجھے راس آتا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

(شاعر: محسن نقوی)

Post a Comment

0 Comments