حبیب جالب کی بیگم ایک دن اُن سے ملاقات کیلئے جیل گئیں اور جالب سے کہنے لگیں۔ آپ تو جیل میں آگئے ہو یہ بھی سوچا ہے کہ بچوں کی فیس کا کیا بنے گا اور گھ…
Read moreمیں غزل کہوں تو کیسے کہ جدا ہیں میری راہیں مرے ارد گرد آنسو، مرے آس پاس آہیں نہ وہ عارضوں کی صبحیں نہ وہ گیسوؤں کی شامیں کہیں دور رہ گئی ہیں مرے شوق …
Read moreاسلام آباد میں بنی گالا کی ایک پہاڑی پر واقع وزیراعظم عمران خان کی رہائش گاہ کے کشادہ لان میں کناتیں لگا کر ایک عارضی ٹی وی اسٹوڈیو قائم کیا گیا…
Read more'کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو میں نہیں مانتا۔۔میں نہیں جانتا‘ چند ماہ قبل دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی …
Read moreیہ کارِ نیک ہے عمران، ہسپتال بنا نہ حاسدوں کا بُرا مان، ہسپتال بنا معاملات نہ رکھ صرف اہلِ ایماں سے تو کافروں سے بھی لے دان، ہسپتال بنا تو وا…
Read moreمزاحمتی ادب کا جب بھی ذکر چھڑے گا، حبیب جالب کا نام ضرور آئے گا۔ قید و بند کی پروا کیے بغیر حبیب جالب ہمیشہ عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے رہے۔ ج…
Read moreحبیب جالب 28 فروری 1928ء کو متحدہ ہندوستان کے ضلع ہوشیار پور کے ایک کسان گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ اینگلو عریبک ہائی اسکول دہلی سے دسویں جماعت کا ام…
Read moreحبیب جالب ایک باغی شاعر تھا اور اپنے عہد میں اپنی نوعیت کا شاید واحد شاعر تھا۔ مزاحمتی شاعری کی تاریخ میں جالب کا نام ہمیشہ ناقابل فراموش رہے گا…
Read moreسوشل میڈیا کی شتر بے مہار فعالیت سے یقیناً بہت ساری قباحتیں پیدا ہوئی ہیں مگر اس سے قطع نظر اس کا تحرّک سوشل میڈیا سے منسلک سوسائٹی کے ہر فرد کو…
Read moreدیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو، صبح بےنور کو میں ن…
Read moreتو کہ ناوا قفِ آدابِ شہنشاہی تھی رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے تجھ کو انکار کی جرّات جو ہوئ تو کیونکر سایہ ِءشاہ میں اسطرح جیا جاتا ہے …
Read moreظلمت کو ضیاء صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا پتھر کو گہر،دیوار کو در،کرگس کو ہما کیا لکھنا اک حشر بپا ہے گھر گھر میں دم گھٹتا ہے گنبد …
Read moreاور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا لاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا ہم نے سیکھا ہی نہیں پیارے بااجازت…
Read moreسرِ منبر وہ خوابوں کے محل تعمیر کرتے ہیں علاجِ غم نہیں کرتے فقط تقریر کرتے ہیں بہ ہر عالم خُدا کا شُکر کیجے، اُن کا کہنا ہے خطا کرتے ہیں…
Read more۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں قائد عوام ہوں جتنے میرے وزیر ہیں سارے ہی بے ضمیر ہیں میں انکا بھی امام ہوں میں قائد عوام ہوں میں پسر شاہنواز ہوں میں…
Read moreزندگی گزار رہے ہیں جو ہم یہاں یہ زندگی نصیب ہے لوگوں کو کم یہاں کوشش کے باوجود بھلائے نہ جائیں گے ہم پر جو دوستوں نے کئے ہیں کرم یہاں …
Read moreیہ وزیرانِ کرام،، حبیب جالب -------------- کوئ ممنونِ فرنگی ،کوئ ڈالر کا غلام دھڑکنیں محکوم ان کی لب پہ آزادی کانام ان کو کیا معلوم کس ح…
Read moreﺗﺮﮮ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﮎ ﺟﮩﺎﮞ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﮯ ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﮐﯽ ﻭﮦ ﻣﺴﺖ ﺷﺎﺩﺍﺏ ﻭﺍﺩﯼ ﺟﮩﺎﮞ ﮨﻢ ﺩﻝِ ﻧﻐﻤﮧ ﺧﻮﺍﮞ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﮯ ﻭﮦ ﺳﺒﺰﮦ ، ﻭﮦ ﺩﺭﯾﺎ، ﻭﮦ ﭘﯿﮍﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﮔﯿﺘ…
Read moreاور جالبؔ آخری سانس تک سچ کا دم بھرتا رہا۔ 21 سال پہلے آج ہی کا دن تھا۔ 12 مارچ کی رات تھی۔ آدھی رات، شاعر نے اکھڑی اکھڑی سانسیں لیتے گزار ل…
Read moreہم کو نظروں سے گرانے والے ڈھونڈ اب ناز اٹھانے والے چھوڑ جائیں گے کچھ ایسی یادیں روئیں گے ہم کو زمانے والے رہ گئے نقش ہمارے باقی …
Read more
Find Us On