ایک مرتبہ ہم لاری پر جوہر آباد جا رہے تھے‘ بڑی دیر کی بات ہے میرے ساتھ لاری میں ایک اور معزز آدمی پرانی وضع کے ریٹائرڈ تھے‘ گرمی بہت تھی‘ انہوں نے گود میں پگڑی رکھی ہوئی تھی۔ ہوا آ رہی تھی ، ایک خاص علاقہ آیا تو انہوں نے پگڑی اٹھا کے سر پر رکھ لی اور ادب سے بیٹھ گئے۔ میں متجسس آدمی تھا میں نے کہا، جی! یہاں کسی بزرگ کا مزار ہے۔ کہنے لگے نہیں۔ میں نے کہا، جی کوئی درگاہ ہے یہاں۔ کہنے لگے نہیں۔ میں بولا، معاف کیجئے گا میں نے دیکھا ہے کہ آپ نے پگڑی گود سے اٹھا کر سر پر رکھ لی ہے اور باادب ہو کر بیٹھ گئے ہیں، کوئی وجہ ہو گی۔ کہنے لگے !بات یہ ہے کہ میں اس علاقے کا واقف ہوں، یہاں ڈیزرٹ تھا ، ریت تھی اور کچھ بھی نہیں تھا، حکومت نے سوچا کہ اس میں کوئی فصل اگائی جائے ۔ لوگ آتے نہیں تھے ۔
ایک آدمی آیا ،اس نے آ کر جھونپڑا بنایا اوریہاں پانی کی تلاش میں ٹیوب ویل وغیرہ سنگ کرنے کی کوشش کی۔ وہ پہلا آدمی تھا جس نے یہاں سبزہ اگایا اور اس زمین کو ہریالی بخشی۔ میں جب بھی یہاں سے گزرتا ہوں پتا نہیں وہ آدمی کہاں ہوگا، میں نے اس کے احترام میں یہ پگڑی اٹھا کے رکھ لی۔ دیکھیے، یہ ایسی چیزیں ہیں جو ہماری زندگی کے اوپر عجیب طرح سے اثرانداز ہوتی ہیں اور اگر آپ اپنی آنکھیں بالکل کھلی رکھیں اورکان بھی تو آپ کو اردگرد اتنی کہانیاں ملیں گی جن کے اوپر آپ نے اس سے پہلے توجہ نہیں دی ہو گی۔ ہمارے استاد پروفیسر صوفی غلام مصطفی تبسم صاحب ہم سیانے تھے، میں ففتھ ایئر میں پڑھتا تھا ،ان کی ایک عادت تھی کہ جب کسی کی شادی ہوتی تھی تو لڑکی کے گھر والوں میں ان کے گھر جا کر بارات کو کھانا کھلانے کا بندوبست ان کے اوپر ہوتا تھا۔
صوفی صاحب نے ہم کو کہا کہ چلو بھئی فلاں گھر میں کھانا دینا ہے، بارات آ گئی ہے۔ مجھے یاد ہے، ہم بھاٹی دروازے بتیاں والی سرکار کے پیچھے ایک گھر تھا‘ وہاں چلے گئے. انہوں نے کہا، لو جی صوفی صاحب آ گئے، فکر کی کوئی بات نہیں، نائی دیگیں لے آئے اب جو بارات تھی اس کے بارے میں خیال تھا کہ 80 کے قریب بندے ہوں گے، وہ 160 کے قریب آ گئے۔ اب صوفی صاحب کی آنکھیں، اگر آپ میں سے کسی کو یاد ہے ماشاء اللہ بہت موٹی تھیں، گھبرا گئے ، ان کے ماتھے پر پسینا ناک پر بھی آ جاتا تھا، کہنے لگے اشفاق ہن کیہہ کریے؟۔ میں نے کہا پتا نہیں، دیگوں میں پانی ڈال دیتے ہیں۔ پہلا موقع تھا ،میں ففتھ ایئر کا سٹوڈنٹ تھا انہوں نے ایک زوردار تھپڑ میرے منہ مارا۔
کہنے لگے، بیوقوف آدمی، اس میں پانی ڈال کے مرنا ہے وہ تو فوراً ختم ہو جائے گا، اس میں گھی کا ایک اور پیپا ڈالنا ہے۔ گاڑھا ہو جائے گا تو کھایا نہیں جاتا۔ اب ہم اندر سروے کر رہے تھے اور صوفی صاحب بیچ میں نکال کے ڈالتے جاتے تھے۔ ہم باراتیوں سے کہتے، اور لائیں۔ وہ کہتے تھے گرم لائو جی۔ ہم تو بھاگے پھرتے تھے اب آخر کیفیت یہ آ گئی کہ دیگیں ختم ہو گئیں اور ان کا چہرہ دیکھنے والا تھا۔ وہ کانپ رہے تھے اگر کسی نے اندر سے کہہ دیا کہ اور بھیجیں، ان کے پاس دینے کے لیے صرف ایک رہ گئی تھی لیکن وہ ڈرے ہوئے تھے۔ جب خوفزدہ تھے تو اندر سے آواز آئی بس۔ جب دوسرے بندے نے کہا، بس بس جی صوفی صاحب۔ میں نے کہا، خدا کے واسطے ایسی ٹینشن کا کام آئندہ نہیں کرنا۔
کہنے لگے نہیں، بالکل نہیں، میری بھی توبہ۔ وہاں سے ہم چل پڑے، پیچھے ہم شاگرد، خود آگے آگے۔ صوفی صاحب کوئی پندرہ بیس گز سے زیادہ گئے ہوں گے ایک مائی باہر نکلی۔ کہنے لگی لو غلام مصطفی میں تو تینوں لبھ دی پھرنی آں۔ تاریخ رکھ دتی ہے13 بھادوں دی ،کاکی دی۔ تو صوفی صاحب جو توبہ کر کے نکلے، کہنے لگے کاغذ ہے؟ ہاں، پنسل ہے ؟ کہنے لگے ہاں۔ لکھ 13سیر گوشت ایک بوری چول ،صوفی صاحب لکھوا رہے ہیں تو میں نے کہا ،جی یہ پھر ہو گا، کہنے لگے نہیں ! یہ تو ان کی ضرورت ہے۔ میں نے کہا آپ صرف کتاب کی تشریح وغیرہ پڑھایا کریں یہ تو ان کا کام تھا تو یہ جو عمل کی دنیا ہے اس میں داخل ہونا ضروری ہے۔
0 Comments