تیرے اِرد گِرد وہ شور تھا، مِری بات بیچ میں رہ گئی نہ میں کَہہ سکا نہ تُو سُن سکا، مِری بات بیچ میں رہ گئی میرے دل کو درد سے بھر گیا، مجھے بے یقین سا…
Read moreکیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے رات بھر چاند کے ہمراہ پھرا کرتے تھے جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیں ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے …
Read moreانہی خوش گمانیوں میں کہیں جاں سے بھی نہ جاؤ وہ جو چارہ گر نہیں ہے اسے زخم کیوں دکھاؤ یہ اداسیوں کے موسم یونہی رائگاں نہ جائیں کسی یاد کو پکارو کسی در…
Read moreہاتھ خالی ہیں ترے شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہمیں پہچانتا ہے عمر گزری ہے ترے شہر میں آتے جاتے اب کے …
Read moreزندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے اِک خواب ہیں جہاں میں بِکھر جائیں…
Read more
Find Us On