Urdu Classics

6/recent/ticker-posts

دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی جو ظلم تو سہتا ھے ، بغاوت نہیں کرتا


وہ شخص کہ میں جس سے محبت نہیں کرتا
ہنستا ھے مجھے دیکھ کے نفرت نہیں کرتا

پکڑا ھی گیا ھوں تو مجھے دار پہ کھینچو
سچا ھوں مگر اپنی وکالت نہیں کرتا

کیوں بخش دیا مجھ سے گنہگار کو مولا
منصف تو کسی سے بھی رعایت نہیں کرتا

گھر والوں کو غفلت پہ سبھی کوس رھے ھیں
چوروں کو مگر کوئی ملامت نہیں کرتا

کس قوم کے دل میں نہیں جذباتِ ابراہیم
کس ملک پہ نمرود حکومت نہیں کرتا

دیتے ھیں اجالے میرے سجدوں کی گواھی
میں چھپ کے اندھیروں میں عبادت نہیں کرتا

بھولا نہیں میں آج بھی آدابِ جوانی
میں آج بھی اوروں کو نصیحت نہیں کرتا

انسان یہ سمجھیں کہ یہاں دفن خدا ھے
میں ایسے مزاروں کی زیارت نہیں کرتا

دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ھے ، بغاوت نہیں کرتا

قتیل شفائی

Post a Comment

0 Comments