گریباں پسینے میں تر ہو رہا ہے کمر بند گردن کے سر ہو رہا ہے سفینہ جو زیر و زبر ہو رہا ہے اُدھر کا مسافر اِدھر ہو رہا ہے جو دیوار تھی اس میں در…
Find Us On