آخر آخر ایک غم ہی آشنا رہ جائے گا اور وہ غم بھی مجھ کو اک دن دیکھتا رہ جائے گا سوچتا ہوں اشک حسرت ہی کروں نذر بہار پھر خیال آتا ہے میرے پاس کیا…
Find Us On