یوسف نہ تھے مـــگر سرِ بازار آ گئے خوش فہمیاں یہ تھیں کہ خریدار آ گئے ھم کج ادا چراغ کہ جب بھی ہوا چلی طاقوں کو چھوڑ کر سرِ دیوار آ گئے پھر اس طرح ہُ…
Find Us On